ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بارش اور طوفان سے نہیں آسمانی بجلیاں گرنے سے ہوتی ہے ملک میں سب سے زیادہ اموات، ہر سال اوسطاً 2447 لوگوں کی جاتی ہیں جانیں!

بارش اور طوفان سے نہیں آسمانی بجلیاں گرنے سے ہوتی ہے ملک میں سب سے زیادہ اموات، ہر سال اوسطاً 2447 لوگوں کی جاتی ہیں جانیں!

Wed, 26 Jun 2019 12:27:37    S.O. News Service

نئی دہلی، 26 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) گزشتہ 24 گھنٹے میں اتر پردیش میں بجلی گرنے سے 17 لوگوں کی موت ہو گئی اور 19 افراد زخمی ہو گئے۔آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ ملک میں کسی بھی قدرتی آفت سے زیادہ اموات بجلی گرنے سے ہوتی ہیں۔2010 سے لے کر 2018 تک 22027 افراد کی موت بجلی گرنے سے ہوئی ہے،یعنی ہر سال اوسطا 2447 لوگوں کی جان بجلی گرنے سے جا رہی ہے۔

کلائمنٹ ریجلیٹ آبزرونگ سسٹن پروموشن کونسل (سی آراوپی سی) کے چیئرمین کرنل سنجے شریواستو نے بتایا کہ 2018 میں ہی 3000 سے زیادہ موت بجلی گرنے سے ہوئی ہے۔گزشتہ تین سال میں ہی بجلی گرنے سے اموات کی تعداد میں 1000 کا اضافہ ہوا ہے۔قدرتی آفات کے تئیں حکومتوں اور لوگوں کو بیدار کر رہے کرنل سنجے شریواستو کہتے ہیں کہ آج کے دور میں بجلی گرنے سے موت ہونا شرمناک ہے،وہ بھی تب، جب 24 گھنٹے پہلے انتباہ جاری کر دیا جاتا ہے۔

اتر پردیش میں صرف ایک ہی دن  بجلی گرنے سے 17 لوگوں کی جان چلی گئی اور   وزیر اعلی نے  اسے  آسمانی آفت قرار دیا،جبکہ سائنسی طریقے سے لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں  لیکن حکومتیں ایسے اقدامات  نہیں اُٹھاتی کہ لوگوں کی جانوں کو بچایا جاسکے۔کرنل سنجے شریواستو نے کہا کہ جس طرح سے موسمیاتی تبدیلی ہو رہی ہے، اس سے قدرتی آفات بھی بڑھ گئی ہیں۔گزشتہ سال آندھرا پردیش میں مئی مہینے میں ایک دن میں 41025 بار بجلی گری تھی۔اس کی وجہ سے 14 لوگوں کی موت ہو گئی تھی،وہ تو اچھا ہوا کہ آندھرا پردیش  میں  ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی طرف سے  تنبیہ کی گئی تھی جس کی  وجہ سے سینکڑوں جانیں بچ گئیں۔

آج کے  سائنسی اور ٹیکنالوجی کے  دور   میں  ریاستی حکومتوں کو ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور محکمہ موسمیات کی جانب سے 2 گھنٹے سے لے کر 24 گھنٹے پہلے ہی  کسی موسمی تبدیلی کے تعلق سے   انتباہ جاری کردیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی ریاستوں کی حکومتیں اسے لے کر سنجیدہ نہیں ہیں۔جون سے  ستمبر تک  مانسون رہتا ہے لیکن پری مانسون (اپریل سے جون کے وسط تک) زیادہ آسمانی بجلیاں  گرتی ہیں ،جو  زیادہ مہلک ہوتی ہیں،اگر آسمان میں اچانک کم اونچائی والے گھنے سیاہ اور لٹکتے بادل نظر آئیں، تو مان لیں کہ بارش کی پہلی بوند کے بعد کبھی بھی اور کہیں بھی بجلی گر سکتی ہے،بجلی چمکنے اور گڑگڑاہٹ کی آواز کے درمیان وقفہ 30 سیکنڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔ایسے میں عوام الناس کو  چوکنا ہوجانا چاہئے اور بجلی کی زد میں آنے  سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔


Share: